لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر گرفتاری کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ملزم عمر فاروق عرف احتشام کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی اور اس حوالے سے 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر کی حیثیت حاصل ہوگی۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان سمیت دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو طلب کیا۔ عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن نے اعتراف کیا کہ فوجداری قوانین میں سپلیمنٹری بیان سے متعلق کوئی الگ قانونی شق موجود نہیں، جبکہ بعض تفتیشی افسران شاطرانہ مقاصد کے لیے ایسے بیانات کا سہارا لیتے ہیں۔
وزارت خزانہ کا رواں مالی سال کیلئے کفایت شعاری اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پولیس کے سامنے کیا گیا اعترافِ جرم قانوناً قابل قبول شہادت نہیں ہوتا، جبکہ صرف سپلیمنٹری یا تاخیر سے سامنے آنے والے بیان کی بنیاد پر کسی شخص کو گرفتار کرنا قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں۔
ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ صرف سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
عدالت نے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کو ہدایت کی کہ فیصلے کی نقل تمام ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز)، کیپیٹل سٹی پولیس افسران (سی پی اوز) اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کو بھجوائی جائے تاکہ اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو مزید حکم دیا کہ سپلیمنٹری بیانات کی بنیاد پر ہونے والی گرفتاریوں کا سخت قانونی جائزہ لیا جائے اور فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ دو ہفتوں کے اندر عدالت میں پیش کی جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ابتدائی ایف آئی آر کے بعد محض سپلیمنٹری یا اضافی بیان، کسی آزاد اور مضبوط شہادت کے بغیر، کسی ملزم کی گرفتاری کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا اور ایسا طرزِ عمل بنیادی حقوق اور منصفانہ تفتیش کے اصولوں کے منافی ہے۔