ایپل نے اوپن اے آئی پر مقدمہ کر دیا
**ایپل کا اوپن اے آئی اور سابق ملازمین کے خلاف تجارتی راز چوری کا مقدمہ**
ایپل نے اوپن اے آئی اور اپنے دو سابق ملازمین کے خلاف تجارتی رازوں کے مبینہ غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایپل نے جمعہ کو شمالی ضلع کیلیفورنیا کی امریکی ضلعی عدالت میں مقدمہ دائر کیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق ملازمین نے کمپنی کی خفیہ معلومات اوپن اے آئی کے ہارڈویئر منصوبوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیں۔
ایپل کا الزام ہے کہ اوپن اے آئی نے اپنے سابق ملازمین، بھرتی کے عمل اور دیگر ذرائع کے ذریعے کمپنی کی حساس معلومات تک رسائی حاصل کی اور ان معلومات کو اپنی نئی ہارڈویئر مصنوعات کی تیاری میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔
دوسری جانب اوپن اے آئی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے کسی بھی کمپنی کے تجارتی رازوں میں دلچسپی نہیں، اور اس کی توجہ ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے پر ہے جو دنیا بھر کے صارفین کے لیے فائدہ مند ہو۔
یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی ڈیوائسز کی تیاری کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مقابلے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اوپن اے آئی مستقبل میں ایسی ہارڈویئر مصنوعات متعارف کرانے کی کوشش کر سکتی ہے جو روایتی اسمارٹ فون ایپس یا آپریٹنگ سسٹمز سے مختلف انداز میں کام کریں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مصنوعات کے میدان میں بڑھتے ہوئے مقابلے نے ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور ملکیتی معلومات کے حصول کی دوڑ تیز کر دی ہے، جس کے باعث ایپل اور اوپن اے آئی کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔
پی پی فورسائٹ کے تجزیہ کار پاؤلو پیسکیٹور کے مطابق ایپل اب اوپن اے آئی کو صرف ایک شراکت دار کے طور پر نہیں بلکہ ممکنہ حریف کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، جبکہ اوپن اے آئی آئی فون پر انحصار کم کرتے ہوئے صارفین تک براہِ راست رسائی کے لیے اپنی ڈیوائسز تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایپل کے مطابق مقدمے میں نامزد دو سابق ملازمین میں سابق سینئر سسٹمز الیکٹریکل انجینئر چینگ لیو اور آئی فون و ایپل واچ کے سابق نائب صدر برائے پروڈکٹ ڈیزائن تانگ یُو تان شامل ہیں۔
ایپل نے الزام لگایا کہ چینگ لیو نے کمپنی کا دیا گیا لیپ ٹاپ واپس نہیں کیا اور مبینہ طور پر اندرونی نظام کی ایک خامی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایپل کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی، جہاں سے ہارڈویئر سے متعلق خفیہ فائلیں حاصل کی گئیں۔
کمپنی کا مزید دعویٰ ہے کہ تانگ یُو تان نے ایپل چھوڑنے سے قبل خفیہ معلومات اوپن اے آئی کے فائدے کے لیے استعمال کیں، جن میں سپلائرز اور اندرونی منصوبہ بندی سے متعلق معلومات بھی شامل تھیں۔
ایپل نے یہ بھی الزام لگایا کہ تان نے اوپن اے آئی میں ملازمت کے انٹرویوز کے دوران امیدواروں کو ایپل کے پرزے اور معلومات پیش کرنے کی ترغیب دی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مقدمے کے نتائج کچھ بھی ہوں، یہ قانونی تنازع اوپن اے آئی کے ہارڈویئر منصوبوں کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے اور دونوں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔