اس دورے کے دوران 2025 سے 2027 کے روڈ میپ کے تحت مشترکہ دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عسکری تعاون کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مجوزہ تعاون میں جدید ڈرونز، مائیکرو الیکٹرانکس، آپٹرونکس اور بھاری فوجی گاڑیوں سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے بیلاروسی ہوابازوں کو بنیادی اور ٹیکٹیکل سطح پر پائلٹ ٹریننگ فراہم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔
محسن نقوی کا پاک سعودیہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل فیصل شاہ نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی مکمل رکنیت کے بعد پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تعاون سفارتی تعلقات سے آگے بڑھتے ہوئے صنعتی اور دفاعی شعبوں تک وسعت اختیار کر رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں پاکستان، بیلاروس اور روس کے درمیان وسیع تر دفاعی تعاون کی راہ ہموار کر سکتی ہے اور پاکستان کی طویل المدتی دفاعی خودمختاری کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔