Gas Leakage Web ad 1

قومی جیل اصلاحات کانفرنس: قیدیوں کی بحالی، اصلاحی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور

0

اسلام آباد: سپریم کورٹ پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ قومی جیل اصلاحات کانفرنس میں قیدیوں کی بحالی، جیلوں کے نظم و نسق میں بہتری، اصلاحی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور وفاقی و صوبائی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

Gas Leakage Web ad 2

سپریم کورٹ پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ قومی جیل اصلاحات کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی دستخط کیے۔

شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کیلئے انتظامات، جسد خاکی امام خمینی حسینیہ منتقل

کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، عدلیہ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، جیل انتظامیہ، انسانی حقوق کے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

شرکاء نے قیدیوں کی بحالی، جیلوں کے نظم و نسق میں بہتری، اصلاحی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور وفاقی و صوبائی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان میں جیل اصلاحات کو قومی ترجیح کے طور پر آگے بڑھایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے وفاق، صوبوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر اور مربوط تعاون کو یقینی بنایا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان کی جیلیں اس وقت اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کا بوجھ برداشت کر رہی ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچہ ناکافی ہے، صحت اور ذہنی صحت کی سہولیات محدود ہیں اور تعلیم، بحالی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع بھی مطلوبہ سطح پر دستیاب نہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ چیلنجز صرف جیل انتظامیہ تک محدود نہیں بلکہ انصاف تک رسائی، عوامی تحفظ، انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ بامعنی اور پائیدار جیل اصلاحات کے لیے ایگزیکٹو، عدلیہ اور مقننہ کے درمیان مربوط اقدامات ناگزیر ہیں، جبکہ جیلوں کے انتظام، وسائل کی فراہمی اور اصلاحات کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے غیر ضروری قید میں کمی، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کے حل اور جیل انتظام کو آئینی اور انسانی حقوق کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اعلامیے میں قیدیوں کے لیے حفظانِ صحت، غذائیت، طبی اور ذہنی صحت کی سہولیات، شکایات کے مؤثر ازالے، تشدد اور بدسلوکی سے تحفظ، تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، نفسیاتی معاونت، منشیات کے علاج، مہارتوں کی ترقی اور رہائی کے بعد معاشرے میں دوبارہ انضمام کے پروگراموں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق جیل اصلاحات کے متفقہ قومی نظام پر عمل درآمد کی باقاعدگی سے نگرانی اور رپورٹنگ کی جائے گی۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جیل اصلاحات صرف ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ آئینی، انسانی اور عوامی تحفظ کا تقاضا بھی ہیں، اور تمام فریق ہر فرد کے وقار کے مطابق ایسا جیل نظام تشکیل دینے کے لیے مل کر کام کریں گے جو قانونی، انسانی اور بحالی کے اصولوں پر مبنی ہو۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.