تھور میک میں مقامی مسجد بھی سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی، جبکہ تھور اینگر میں خشک پہاڑی سے اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
سیلابی ریلے کے باعث ایک رہائشی مکان، قیمتی سامان، مال مویشی اور ایک گاڑی بہہ گئی۔ ذرائع کے مطابق گولڈ پلیسر کے ذریعے نکالا گیا تقریباً 200 گرام سونا اور نقد رقم بھی سیلاب کی نذر ہو گئی۔
ایران، پاکستان کی مختلف بندرگاہوں میں پھنسے 13 سے 18 ہزار کنٹینرز کا منتظر
علاوہ ازیں سیلابی ملبہ رہائشی گھروں میں داخل ہونے سے تھور کا رابطہ سڑک سے منقطع ہو گیا ہے۔
تھور شیتن اور تھور میک سمیت متعدد علاقوں میں سیلابی پانی کھیتوں میں داخل ہو گیا، جس سے کھڑی فصلوں اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، تاہم رابطہ سڑکیں منقطع ہونے کے باعث متاثرین اور امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔