Gas Leakage Web ad 1

آخر ٹی وی کے ریموٹ کنٹرول میں بہت زیادہ بٹن کیوں ہوتے ہیں جو کبھی استعمال بھی نہیں ہوتے؟

0

آپ 20 سال پرانے ٹیلی ویژن (ٹی وی) ریموٹ کو دیکھیں اور پھر اس کا موازنہ موجودہ دور کے کسی ریموٹ سے کریں۔

Gas Leakage Web ad 2

تو چند معمولی تبدیلیوں کے علاوہ دونوں میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔

فٹبال ورلڈکپ میں آف سائیڈ رول کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

درحقیقت اس عرصے کے دوران ریموٹ کنٹرولز میں کوئی خاص بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ مزید برآں ان میں موجود زیادہ تر بٹن ایسے ہوتے ہیں جن کا روزمرہ استعمال میں کوئی خاص کردار نہیں ہوتا، تو پھر وہ موجود کیوں ہوتے ہیں؟

اس کی وجوہات کافی دلچسپ ہیں۔

جب بھی صارف ٹی وی یا کوئی بھی الیکٹرانک ڈیوائس خریدتا ہے تو وہ عموماً ایسے فیچرز چاہتا ہے جو ڈیوائس کو زیادہ جدید اور بھرپور محسوس کرائیں۔

اس کے برعکس کم بٹنوں والا ریموٹ سادہ اور نسبتاً سستا محسوس ہو سکتا ہے۔ اسی تاثر کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنیوں نے ریموٹ کنٹرولز میں اضافی بٹن شامل کرنا شروع کیے تاکہ صارف کو یہ احساس ہو کہ ڈیوائس مکمل اور جدید ہے۔

زیادہ تر صارفین بھی ریموٹ کے تمام بٹن استعمال نہیں کرتے بلکہ صرف چند مخصوص بٹن ہی ان کے کام آتے ہیں۔

ایک اور وجہ کمپنیوں کی طرف سے لاگت کو مستحکم رکھنا ہے۔

اگر کوئی کمپنی کم بٹنوں والا نیا ریموٹ تیار کرنا چاہے تو اسے نئے پلاسٹک سانچے (mold) کی ضرورت ہوگی، ساتھ ہی سرکٹ بورڈ کا ڈیزائن بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔

اس کے علاوہ نئے ڈیزائن کی جانچ اور ٹیسٹنگ کے مراحل بھی درکار ہوں گے۔

یہ تمام عمل اضافی اخراجات اور وقت کا باعث بنتا ہے، اس لیے زیادہ آسان حل یہی ہوتا ہے کہ پہلے سے موجود ریموٹ ڈیزائن ہی مختلف ماڈلز میں استعمال کیا جائے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ریموٹ کسی حد تک طیارے کے کاک پٹ جیسا محسوس ہونے لگتا ہے جس میں درجنوں بٹن موجود ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے کئی صرف نمائشی ہوتے ہیں۔

ایک اور اہم وجہ ریموٹ کا استعمالی انداز ہے۔

اکثر لوگ ریموٹ کو اندھیرے میں استعمال کرتے ہیں اور دیکھنے کے بجائے لمس پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے بٹنوں کی ترتیب ایک جیسی رکھی جاتی ہے تاکہ صارف بغیر دیکھے بھی آسانی سے مطلوبہ بٹن استعمال کر سکے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.