پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں مدعی کے مطابق ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور ساتھیوں پر بلیک میلنگ اور دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر شادی نہ کی گئی تو متعلقہ ڈیٹا لیک کر دیا جائے گا۔ مومنہ اقبال کی بہن نے دھمکیوں سے متعلق ویڈیوز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو فراہم کر دی ہیں۔
آزاد کشمیر میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا
ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ویڈیوز اور موبائل فون کو ڈیجیٹل شواہد کے طور پر تحویل میں لے کر فرانزک معائنے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے، جبکہ ثاقب چدھڑ کے نمبر سے دھمکی آمیز پیغامات بھیجے جانے کا بھی ذکر موجود ہے۔
یاد رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے چند روز قبل ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت درج کروائی تھی۔
بعدازاں سیشن کورٹ لاہور میں مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی، اور عدالت نے 24 جون تک انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ نے عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، جبکہ ثاقب چدھڑ کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق پیش ہوئے۔