Gas Leakage Web ad 1

پیٹرول پر 22 نہیں 122 روپے کم ہونے چاہیے تھے، حافظ نعیم الرحمان

0

امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ پیٹرول بائیس نہیں ایک سو بائیس روپے کم ہونے چاہیے تھے لیکن حکومت نے غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر لیوی ٹیکس لگا رکھا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

تفصیلات کے مطابق امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور کراچی کی سیاسی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ملک میں مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ "کرپشن اور لوٹ مار کا اصل نام پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ہے، جنہوں نے مل کر کراچی کے تمام اداروں کا بیڑا غرق کر دیا ہے”۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت اور وفاق آپس میں ‘نورا کشتی’ کرتے ہیں اور ایم کیو ایم اس کشتی کا حصہ بن جاتی ہے، جبکہ ن لیگ نے بھی آج تک کراچی کو کوئی بڑا منصوبہ نہیں دیا۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے امیرِ جماعت اسلامی نے کہا کہ عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 122 روپے فی لیٹر کمی ہونی چاہیے تھی، لیکن حکومت نے غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر لیوی ٹیکس لگا رکھا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ غریب عوام سے پٹرولیم لیوی کی مد میں 3 ہزار ارب روپے اکٹھے کیے گئے ہیں،”میں نے خود وزیر اعظم سے ملاقات میں کہا تھا کہ عوام پر سے لیوی کا یہ ظالمانہ بوجھ ختم کریں”۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر پٹرول کی قیمت کو 250 روپے پر لا کر 3 سال کے لیے لاک کر دیا جائے تو معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگے گا اور حکومت کو کسی اضافی لیوی ٹیکس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معیشت کو اسی طرح جکڑ کر رکھا گیا تو عوام کا کچومر نکل جائے گا اور ملک کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

امیرِ جماعت اسلامی نے کراچی کے پانی کے دیرینہ منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘کے فور’ (K-IV) منصوبہ بھی تاحال ادھورا پڑا ہے جس پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.