چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن چوہدری ذکا اشرف نے اضافی چینی کی برآمد سے متعلق کابینہ کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے جلد اجلاس بلانے کی درخواست کر دی۔
ڈپٹی وزیراعظم کو ارسال کردہ مراسلے میں چوہدری ذکا اشرف نے کہا کہ شوگر انڈسٹری نے کرشنگ سیزن 2025-26 کے دوران ملکی ضرورت سے زیادہ چینی پیدا کی ہے، جبکہ ایک ماہ کے اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کے باوجود تقریباً ساڑھے 7 لاکھ ٹن چینی اضافی موجود ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اضافی چینی کی برآمد سے پاکستان کو تقریباً 500 ملین امریکی ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کی موجودہ قیمتیں پیداواری لاگت سے بھی کم ہیں، جس کے باعث شوگر انڈسٹری کو مالی مشکلات اور فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔
چیئرمین شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق آئندہ کرشنگ سیزن میں بھی گنے کی ریکارڈ فصل متوقع ہے، اس لیے اضافی چینی کی برآمد ناگزیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کابینہ کمیٹی کا اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وفد کو بھی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے۔