گرین ٹریکٹرز، جدید کمبائنڈ ہارویسٹرز اور سپر سیڈرز کی فراہمی سے پنجاب میں جدید زرعی طریقوں کو فروغ مل رہا ہے جبکہ کاشتکاروں کو زرعی مشینری تک آسان رسائی کے لیے مختلف منصوبے جاری ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت 9500 ہائی پاور ٹریکٹرز پر فی ٹریکٹر 10 لاکھ روپے سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ 50 سے 65 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹرز پر فی ٹریکٹر 5 لاکھ روپے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
حکومت نے آئندہ مالی سال میں 20 ہزار مزید گرین ٹریکٹر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نئے مالی سال میں ہائی پاور ٹریکٹرز پر سبسڈی 15 لاکھ روپے جبکہ 50 سے 65 ہارس پاور ٹریکٹرز پر سبسڈی ساڑھے 7 لاکھ روپے تک کرنے کی تجویز ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ریلیف ملے گا۔
بلوچستان، صوبے بھر میں کاروباری مراکز کے نئے اوقات کار مقرر، نوٹیفکیشن جاری
پنجاب میں پہلی بار جدید زرعی مشینری کی خریداری کے لیے 3 کروڑ روپے تک بلا سود قرضوں کی اسکیم بھی شروع کی گئی ہے، جس کے تحت کسانوں کو آسان شرائط پر مالی معاونت دی جا رہی ہے۔
حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اب تک تقریباً 200 ہائی ٹیک کمبائنڈ ہارویسٹرز فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ گندم کی کٹائی کے لیے بھی جدید مشینری استعمال کی گئی ہے جس سے فصل کی بروقت کٹائی ممکن ہوئی۔
ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور فصلوں کی باقیات جلانے کے رجحان کو روکنے کے لیے پنجاب حکومت نے کسانوں میں 5 ہزار سپر سیڈرز تقسیم کیے ہیں، جن کے ذریعے 14 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت مکمل کی گئی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے سپر سیڈر اسکیم کے دوسرے مرحلے میں مزید 5 ہزار سپر سیڈرز فراہم کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔
حکومت کے مطابق یہ اقدامات زرعی پیداوار میں اضافہ، لاگت میں کمی اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ چھوٹے کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔