خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ یورینیم کے ذخائر کو ملک سے باہر منتقل کرنا ایران کو مستقبل میں کسی بھی ممکنہ حملے کے مقابلے میں کمزور بنا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے ای سی سی ارکان کی تعداد میں اضافے کی منظوری دے دی
رپورٹس کے مطابق یہ ہدایت ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر موجود اتفاقِ رائے کے بعد جاری کی گئی ہے، اور اسے ایران کی قومی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے اس فیصلے کے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور مذاکراتی عمل پر اثرات پڑ سکتے ہیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی اہم شرائط میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی بھی شامل تھی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو اس معاملے پر یقین دہانی کرا چکے تھے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم ایران کے حالیہ مؤقف کے بعد مذاکرات کے مستقبل سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔