توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر وفاقی وزیر اویس لغاری کو ہلال امتیاز کے ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ توانائی کے شعبے میں اقدامات اور خدماتِ عامہ کے اعتراف میں مشیر نجکاری محمد علی کو بھی ہلال امتیاز کا ایوارڈ دیا گیا۔
کرکٹر شاہد آفریدی کو کھیل کے شعبے میں نمایاں خدمات پر ہلال امتیاز سے نوازا گیا، جبکہ کوہ پیما شہروز کاشف کے لیے ہلال امتیاز کا ایوارڈ ان کی والدہ نے وصول کیا۔
ساس ہمیشہ خود کو صحیح اور بہو کو نالائق سمجھتی ہیں، مریم نفیس
جمہوریت کے لیے خدمات کے اعتراف میں نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کو نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ ادب کے شعبے میں نمایاں خدمات پر عطاالحق قاسمی کو نشان امتیاز دیا گیا، جبکہ ادب اور خدماتِ عامہ کے شعبے میں خدمات پر عرفان الحق صدیقی مرحوم کو بھی نشان امتیاز کا ایوارڈ دیا گیا۔
ادب کے میدان میں خدمات پر اصغر ندیم سید کو ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔
غیر معمولی بہادری کے اعتراف میں سپاہی اظہر محمود کو ہلال شجاعت کا ایوارڈ دیا گیا، جبکہ وطن کے دفاع میں جام شہادت نوش کرنے والے سپاہی شاہ ولی خان کو بھی ہلال شجاعت سے نوازا گیا۔
گراں قدر خدمات کے اعتراف میں اے ایس آئی اعجاز خان شہید اور وطن کے لیے جان قربان کرنے والے کانسٹیبل عالم زیب شہید کو ہلال شجاعت کے ایوارڈز دیے گئے، جبکہ پولیس لائن بنوں میں دہشتگردوں کو روکنے والے کانسٹیبل حفیظ اللہ کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
شہید لیاقت علی کو ستارہ شجاعت عطا کیا گیا، جبکہ ماہر تعلیم نواب علی شہید کو بھی بے مثال بہادری پر ستارہ شجاعت سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ سینیٹر ہدایت اللہ شہید کو بھی ستارہ شجاعت کا ایوارڈ دیا گیا۔
اے ایس آئی محمد اکرم شہید اور سب انسپکٹر تاج میر شہید کو بے مثال بہادری کے اعتراف میں ستارہ شجاعت عطا کیا گیا۔
خدماتِ پاکستان کے شعبے میں نمایاں کارکردگی پر ڈاکٹر ارشد ریحان اور ممتاز ماہر تعلیم منیر احمد چودھری مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز کے ایوارڈز دیے گئے۔