انٹرپول نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے کہنے پر انٹرپول نے ملک ریاض اور علی ریاض کے ریڈ وارنٹ جاری کیے ہیں۔ اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں ملک ریاض اور علی ریاض منی لانڈرنگ کیسز میں اشتہاری قرار پا چکے ہیں۔
پاکستانی طلبہ نے ترکیہ میں ثقافتی رنگ بکھیر دیے، ترک صدر رجب طیب اردگان سے تاریخی ملاقات
اس موقع پر ڈی جی آپریشنز نیب امجد مجید اولکھ کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کے خلاف نو سو ارب روپے سے زیادہ کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، گزشتہ سال نیب نے انانوے ارب روپے کی ریکوری کی، اور اس وقت منی لانڈرنگ کے سینتیس ہائی پروفائل کیسز پر کارروائی جاری ہے۔ منی لانڈرنگ کے چار کیسز عدالتوں سے ختم ہو چکے ہیں، جبکہ اس وقت دو سو انانوے ریفرنسز، دو سو پانچ انوسٹی گیشنز اور سات سو پینتالیس انکوائریز موجود ہیں۔ رواں سال جنوری سے مارچ کے درمیان آٹھ ہزار پانچ سو تریسٹھ مجموعی شکایات آئیں، جن میں سے آٹھ ہزار دو سو چودہ شکایات کو نمٹا دیا گیا ہے جبکہ چار سو پچہتر شکایات پر تاحال کارروائی جاری ہے۔
بحریہ ٹاؤن سمیت مختلف ہاؤسنگ پراجیکٹس سے متعلق انوسٹی گیشن چل رہی ہیں، سندھ میں ملیر، کورنگی، کلفٹن اور گل احمد ملز سے اراضی واگزار کرائی گئی، جبکہ پنجاب میں بھی نو لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی کو واگزار کرایا گیا ہے اور واگزار کرائی گئی اراضی کی دیکھ بھال کے لیے صوبائی سطح پر ٹاسک فورس بنائی گئی ہے۔ دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کو مشکلات درپیش ہیں اور ملک ریاض کا کہنا ہے کہ سنجیدہ مکالمے اور باوقار حل کی طرف واپس جانے کا موقع دیا جائے۔ چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں کئی سیاستدانوں سے تحقیقات کی گئی ہیں، مختلف پارلیمنٹرینز کے خلاف بھی کیسز چل رہے ہیں، اور پارلیمنٹرینز کے کئی مقدمات ایف آئی اے اور دیگر محکموں کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔