روزانہ دہی کھانے کا یہ فائدہ آپ کو ضرور پسند آئے گا
عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو جوان رکھنا چاہتے ہیں؟ تو دہی کے استعمال کو عادت بنالیں۔
دہی میں لگ بھگ وہ تمام اجزا موجود ہوتے ہیں جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔
کیلشیئم سے ہڈیوں اور دانتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔
اسی طرح دہی میں بی وٹامنز خاص طور پر وٹامن بی 12 اور وٹامن بی 2 کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ دونوں وٹامنز امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔دہی کے ایک کپ سے جسم کو روزانہ درکار فاسفورس کی 28 فیصد، میگنیشم کی 10 اور پوٹاشیم کی 12 فیصد مقدار مل جاتی ہے۔
یہ تینوں جسم کے متعدد افعال جیسے بلڈ پریشر، میٹابولزم اور ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
مگر دہی کی ایک خاص بات اس کی پروبائیوٹیکس خصوصیات ہیں۔
پروبائیوٹیکس معدے میں موجود بیکٹیریا کی غذا ثابت ہوتے ہیں اور ان بیکٹیریا کی جانب سے بنائے جانے والے مرکبات اعصاب سے دماغ تک سفر کرتے ہیں یا سگنل بھیجتے ہیں۔اس سے دماغی سرگرمیاں جیسے مزاج، رویے، یادداشت اور دیگر پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
امریکا کی اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیکس کیے مطابق دہی میں معدے کی صحت کے لیے مفید بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جن سے معدے میں ان کی تعداد کو بڑھانے یا مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
اکیڈمی نے بتایا کہ دہی دماغی صحت کے لیے بہترین ہوتا ہے کیونکہ اس کے استعمال سے معدے میں صحت کے لیے مفید بیکٹیریا کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، نیورو ٹرانسمیٹرز بننے کے عمل میں معاونت ملتی ہے، ورم گھٹتا ہے اور ایسے اجزا جسم کا حصہ بنتے ہیں جو دماغی افعال کو بہتر بناتے ہیں یا ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔اس حوالے سے ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خمیر والی غذاؤں اور مزاج کے درمیان تعلق موجود ہے۔
تحقیق میں چوہوں پر تجربات کے دوران دریافت کیا گیا کہ معدے میں صحت کے لیے مفید بیکٹیریا کی تعداد میں کمی سے ڈپریشن اور انزائٹی کی علامات کی شدت بدترین ہوگئی۔
محققین نے بتایا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ معدے کی صحت مزاج کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔