آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی ہے، اور توقع ہے کہ اجلاس میں اس قسط کی منظوری دے دی جائے گی۔ پاکستان آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے ہی پوری کر چکا ہے۔
بلوچستان سے گندم کی غیر مجاز نقل و حمل پر 2 ماہ کی پابندی، دفعہ 144 نافذ
اجلاس میں پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کی منظوری بھی متوقع ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے آر ایس ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ کو طے پایا تھا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی 1468 ارب روپے کے ہدف سے زائد وصول ہونے کا امکان ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے لیوی مزید بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے حکومت پر سبسڈیز کے خاتمے پر زور دیا ہے، جبکہ حکومت نے معیشت میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث معاشی خطرات برقرار ہیں، تاہم حکومت نے آئی ایم ایف کو مالی نظم و ضبط جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔