Gas Leakage Web ad 1

سلامتی کونسل میں پاکستان نے لیبیا کے استحکام کے لیے سیاسی، سکیورٹی اور معاشی پہلوؤں کو کلیدی قراردے دیا

0

پاکستان نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ لیبیا کی قیادت اور ملکیت میں جاری سیاسی عمل کو تیز کیا جائے، کیونکہ یہی دیرپا امن اور استحکام کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے معاونتی مشن (UNSMIL) سے متعلق بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان لیبیا کو ایک برادر ملک سمجھتا ہے اور سیکریٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ کا نوٹس لیا گیا ہے، جس میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ جاری سیاسی، سکیورٹی اور معاشی چیلنجز کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

ایرانی صدر کے دفتر نے ملک کی اعلیٰ قیادت میں اختلافات کی خبریں مسترد کردیں

اپنے خطاب میں سفیر عاصم نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی عمل میں پیش رفت کے لیے انتخابی امور پر اختلافات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ایوانِ نمائندگان اور ہائی کونسل آف اسٹیٹ کے درمیان اہم انتخابی معاملات، جن میں ہائی نیشنل الیکشن کمیشن کی ازسرِ نو تشکیل اور انتخابی فریم ورک پر اتفاق شامل ہے، پر جاری اختلافات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے ان خلیجوں کو کم کرنے اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے UNSMIL کی کوششوں، خصوصاً اس کے منظم مکالمے اور دو مرحلہ جاتی حکمتِ عملی، کی حمایت کا اظہار کیا۔

سکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے طرابلس اور اس کے نواح میں نسبتی امن کی بحالی کا خیرمقدم کیا اور تمام لیبیائی فریقین پر زور دیا کہ وہ UNSMIL کی معاونت سے طے شدہ سکیورٹی انتظامات پر مکمل عمل کریں اور سکیورٹی شعبے میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے مشرق اور مغرب کی جانب سے لیبیا کے فوجی اور سکیورٹی اداروں کے انضمام کی جاری کوششوں کو بھی سراہا۔

عدالتی پہلو پر اظہار خیال کرتے ہوئے سفیر عاصم نے لیبیا کے قانونی اداروں کی مسلسل شمولیت کا نوٹس لیا اور UNSMIL کی سرپرستی میں قائم عدالتی و قانونی ماہرین کی ثالثی کمیٹی کے کام کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عدالتی وحدت کے تحفظ، آئینی نگرانی کے استحکام اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی پہلو پائیدار امن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے لیبیائی قیادت کی جانب سے متحدہ اخراجاتی فریم ورک پر ہونے والے اہم معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت طویل المدتی معاشی استحکام میں مددگار ثابت ہوگی۔

سفیر عاصم نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کی پابندیاں، خصوصاً اثاثوں کے منجمد کیے جانے کا اقدام، سزا کے طور پر نہیں بلکہ لیبیا کے وسائل کو اس کے عوام کے مفاد کے لیے محفوظ بنانے کے لیے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2819 (2026) کی ان شقوں کا خیرمقدم کیا جو منجمد اثاثوں کے بہتر نظم و نسق، شفافیت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں لیبیا انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ساتھ تعاون بھی شامل ہے۔ انہوں نے 1970 پابندیوں کی کمیٹی کی جانب سے امپلیمنٹیشن اسسٹنس نوٹس کی بروقت منظوری کی بھی امید ظاہر کی۔

اختتام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے اراکین اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک مستحکم، محفوظ اور متحد لیبیا کے قیام اور لیبیا کی قیادت میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.