کیا آپ چائے پینا پسند کرتے ہیں؟ کیا کبھی آپ نے یہ محسوس کیا کہ کسی دن اگر یہ گرم مشروب دستیاب نہ ہو تو سر میں درد کیوں شروع ہوجاتا ہے؟
سفری سہولیات مفت ہونے سے راولپنڈی اسلام آباد کی میٹرو بسز میں شدید رش
واقعی، یہ سچ ہے کہ چائے یا کافی پینے کے عادی افراد کو اگر ان کی پسندیدہ نوشیدنی میسر نہ ہو تو انہیں سردرد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تجربہ بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے، خاص طور پر ان افراد کو جن کے لیے چائے پینا روزمرہ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہو۔
اس کے پیچھے چھپی وجہ نہایت سادہ ہے اور وہ ہے کیفین۔
اگر آپ دماغ کو جوان اور متحرک رکھنا چاہتے ہیں تو کچھ مشروبات مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
جو لوگ چائے یا کافی پینے کے عادی ہیں، ان کے جسم کو کیفین کی عادت ہوچکی ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر آپ دن بھر کئی کپ چائے پینے کے عادی ہیں تو اس مشروب سے دوری کی صورت میں سردرد کا سامنا ہوسکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کافی کے شوقین افراد کو ہوتا ہے۔
کیفین دماغ کے اردگرد موجود خون کی شریانوں کو سکڑ دیتا ہے، اور جب کسی وجہ سے کیفین سے دوری اختیار کرنا پڑے تو یہ شریانیں دوبارہ پھیل جاتی ہیں، جس سے سردرد محسوس ہوتا ہے۔ یعنی ہمارا جسم بہت جلد کیفین کے اثرات کا عادی ہو جاتا ہے، اور جب یہ جز جسم کو نہیں ملتا تو ایسے علامات ظاہر ہوتی ہیں جیسے کسی عادت یا لت کو ترک کرنے پر ہوتی ہیں۔
سردرد اس کی ایک عام علامت ہے اور یہ ان افراد میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے جو دن بھر میں صرف ایک کپ چائے یا کافی کے عادی ہوں۔ ایسی صورت میں عام درد کش دوا کا استعمال سردرد سے نجات دلا سکتا ہے۔
اگر آپ چائے یا کافی پینے کی عادت ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اچانک یہ مشروبات ترک نہ کریں بلکہ بتدریج ترک کریں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ روزانہ دو کپ چائے پیتے ہیں تو اسے پہلے ایک کپ پر لائیں اور کچھ دنوں بعد مکمل طور پر ترک کریں۔
سر کی مالش، زیادہ پانی پینا، مناسب نیند اور متوازن غذا بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع شدہ تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی مشورہ ضرور کریں۔