بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود بھی پیش تھے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خانم، عظمیٰ خان اور نورین خانم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔
نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت کے لیے دو متفرق درخواستیں دائر کی گئی ہیں، اور اپیلوں پر نوٹس کے بغیر سزا معطلی کی درخواستیں نہیں سنی جا سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترمیم کے بعد اپیلوں پر نوٹس کے بغیر سزا معطلی کی سماعت ممکن نہیں، اور اگر دفاع اپیلوں پر دلائل دینا چاہتا ہے تو وہ آج سے شروع کر سکتا ہے۔
وفاقی وزراء، وزرائے مملکت،مشیروں اور معاونین خصوصی نے رواں سال کتنی تنخواہ لی؟
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 17 جنوری 2025 کو سزائیں دی گئی تھیں اور اب تقریباً 14 ماہ گزر چکے ہیں، اس دوران پراسیکیوشن کی جانب سے مسلسل التوا مانگا گیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ وہ مرکزی اپیل پر نہیں بلکہ سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی چاہتے ہیں، بشریٰ بی بی ٹرائل کے دوران ضمانت پر تھیں اور میڈیکل گراؤنڈ بھی موجود ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر ہفتے میں دو دن دیے جائیں تو کیا اپیلوں پر دلائل دیے جا سکتے ہیں، جس پر سلمان صفدر نے کہا کہ پانچ ماہ سے اپنے مؤکلین سے ملاقات نہیں ہوئی اور اپیلوں پر دلائل دینے کے لیے ان سے ہدایات لینا ضروری ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ ملاقات کر لیں، عدالت آئندہ ہفتے کی تاریخ دے دیتی ہے۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر یہ دس منٹ کا کیس ہے تو اپیل پر دلائل کیوں نہیں دیے جا رہے، جبکہ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر اپیل مقرر ہو گئی تو سزا معطلی کی درخواستیں نہیں سنی جائیں گی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب کیسز میں خواتین کو جلد ضمانت دی جاتی ہے، کیس کو لٹکایا جا رہا ہے، اور پہلے سزا معطلی کی درخواستیں سنی جائیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ہدایات لینے کے لیے مہلت کی استدعا کی۔
سلمان صفدر نے مزید کہا کہ توشہ خانہ ون میں اپیلیں نہیں لگ رہیں، پچھلی اپیلیں پڑی ہوئی ہیں اور وہ پہلے سنی جانی چاہئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اپیل مقرر ہو گی تو سزا معطلی نہیں سنی جائے گی، جس پر سلمان صفدر نے کہا کہ وہ اپنے کلائنٹس سے ملاقات کے بغیر کچھ نہیں کہ سکتا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سلمان صفدر سے مکالمہ کیا کہ آپ ملاقات کا وقت لے لیں، میں آپ کو آئندہ ہفتے کی تاریخ دے دیتا ہوں۔ سلمان صفدر نے کہا کہ نیب کیسز میں خواتین کو پندرہ پندرہ دن میں ضمانتیں مل جاتی ہیں، نیب کی جانب سے کیس لٹکانے پر عدالت ہماری سزا معطلی کی درخواستیں سنے، اور اگر عدالت میرے کلائنٹس سے ملاقات کا یقین دہانی کرائے تو میں چلا جاتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پروفیشنل وکیل ہیں اور اسی متعلق بات کریں گے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ یہ نیب جو آپشن دے رہا ہے وہ بہتر آپشن ہے، اور بیرسٹر سلمان صفدر سے کہا کہ آپ ہفتے میں دو دن لے لیں۔ سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ وہ بانی اور بشریٰ بی بی سے ہدایات لینے کے لیے مہلت چاہتے ہیں، جس پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی۔