Gas Leakage Web ad 1

واپڈا کی جانب سے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ایریا میں تعلیم کے فروغ کے لیے 75 گرلز سکولوں کے لیے 94.23 ملین روپے مختص

0

تانگیر اور داریل میں 5 سکولوں کی بہتری کے لیے مزید 29.5 ملین روپے کی منظوری؛ 2 کوسٹرز کی فراہمی بھی شامل

Gas Leakage Web ad 2

24 مارچ 2026: واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے علاقے میں تعلیم، خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھایا ہے۔ واپڈا نے کمیونٹی بیسڈ ایکسیلیریٹڈ لرننگ اسکولز (CBALS) پروگرام کے تحت ضلع دیامر میں 75 سکولوں کے لیے 94.23 ملین روپے کی منظوری دی ہے۔
یہ اقدام چلاس، تانگیر اور داریل میں 2,250 اسکول سے باہر بچیوں کو ابتدائی تعلیم فراہم کرے گا۔ یہ سکولز، جو ریڈفاؤنڈیشن کے تعاون سے چلائے جا رہے تھے، فنڈز کی کمی کے باعث بند ہونے کے قریب تھے۔ واپڈا نے ان کی مسلسل فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے کنٹیجنسی بجٹ سے فنڈز مختص کیے ہیں۔ طے شدہ انتظام کے تحت اب یہ سکولز آئندہ تین سال تک ایک منظم اشتراک کے ذریعے چلائے جائیں گے، جس کی مشترکہ نگرانی واپڈا، محکمہ تعلیم گلگت بلتستان اور ریڈفاؤنڈیشن کریں گے۔
اس کے علاوہ، واپڈا نے تانگیر اور داریل میں پانچ منتخب سرکاری سکولوں کی بحالی، ضروری تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور طلبہ کی آمد و رفت کے لیے دو کوسٹرز فراہم کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ اس مقصد کے لیے 29.5 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ اقدام گلگت بلتستان سکاوٹس کی تجویز پر کیا جا رہا ہے اور اسے واپڈا، محکمہ تعلیم گلگت بلتستان اور جی بی اسکاوٹس کی مشترکہ نگرانی میں عمل میں لایا جائے گا۔ مرمت و بحالی کے کاموں کے علاوہ ان سکولوں میں فرنیچر، سٹیشنری اور دیگر ضروری تعلیمی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں واپڈا نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن دیامر کو منصوبے پر فوری عملدرآمد کے لیے باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ واپڈا قبل ازیں دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے تحت ضلع دیامر میں تعلیم کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات مکمل کرچکاہے ، جن میں 2.10 ارب روپے کی لاگت سے کیڈٹ کالج چلاس کا قیام اور 22.6 ملین روپے کی لاگت سے تھور میں آرمی پبلک اسکول کا قیام شامل ہے۔ مزید برآں، تانگیر اور داریل کے سرکاری اسکولوں کو اپ گریڈ بھی کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر کئی تعلیمی منصوبے مختلف مراحل میں زیرِ غور یا تکمیل کے قریب ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.