اپوزیشن اتحادکا عمران خان سے ملاقات اور مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینےکا فیصلہ

اپوزیشن اتحادکا عمران خان سے ملاقات اور مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینےکا فیصلہ

0

اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں طے پایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا جاری رکھا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنا دے گی، جبکہ تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

بنگلادیش انتخابات: بی این پی نے میدان مارلیا، دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ کل سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پرامن احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات کل دھرنے میں پیش کیے جائیں گے اور جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہوتے دھرنا جاری رہے گا، اگر مطالبات تسلیم کرنے میں خدانخواستہ کوئی غلطی ہوئی تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

یاد رہے کہ اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو دستیاب سہولیات سے متعلق رپورٹ سامنے آ چکی ہے جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔

ادھر سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالج فیصل سلطان اور عاصم یوسف سے کرایا جائے، یا کسی ماہر ڈاکٹر سے طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کے باعث کتابیں فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ تقریباً 3 سے 4 ماہ قبل، یعنی اکتوبر 2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 (بالکل نارمل) تھی، تاہم اب ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پمز کے ڈاکٹروں نے علاج کیا مگر اس کے بعد مسلسل دھندلاہٹ اور نظر مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی۔ انہوں نے متعدد بار اُس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل کو اس بارے میں آگاہ کیا لیکن جیل حکام نے شکایات کے ازالے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔ بعد ازاں اچانک دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہو گئی جس پر پمز اسپتال کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنے کے لیے بلایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان کے مطابق ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا بن گیا تھا جس سے شدید نقصان پہنچا، علاج بشمول ایک انجیکشن کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی محض 15 فیصد تک محدود رہ گئی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.