وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی او آئی سی ویکسین الائنس بنانے کی تجویز

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی او آئی سی ویکسین الائنس بنانے کی تجویز

0

اسلام آباد:
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلامی ممالک پر مشتمل "او آئی سی ویکسین الائنس” قائم کرنے کی تجویز دی ہے اور کہا کہ ویکسین کی تیاری پورے شعبہ صحت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی کا ملک ہے جہاں ہر سال 60 لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوتا ہے، اس لیے ویکسین کی مقامی تیاری ایک بڑا چیلنج ہے۔

7 دن میں اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کےلیے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا، چیف کمشنر

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2030 تک ویکسین کی درآمد اور بیرونی انحصار ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم فوری طور پر ویکسین کی تیاری اور استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر کی کمی نہیں، قومی ادارہ صحت جیسے مضبوط ادارے موجود ہیں، لیکن ویکسین کی تیاری منافع بخش کاروبار نہیں، اس لیے قابل اعتماد شراکت دار کی ضرورت ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان چین، سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، اور سعودی عرب گزشتہ 10 برسوں سے ویکسین کی تیاری کے عمل سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ قومی ویکسین پالیسی بھی تیار کر لی ہے، جس کے تحت ایک کمپنی صرف ایک ویکسین تیار کرے گی تاکہ معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر صحت نے زور دیا کہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور او آئی سی ویکسین الائنس پر شارٹ ٹرم، میڈیم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر آج ہی سے کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ویکسین کی قلت پر معلوم ہوا کہ عالمی ادارہ "گاوی” بھارت سے ویکسین خرید کر پاکستان کو فراہم کر رہا تھا، جس کے بعد مستقل منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صحت مند ماحول، صحت مند قوم اور معاشی استحکام کا براہِ راست تعلق قومی سلامتی سے ہے، اس لیے ویکسین میں خود کفالت ناگزیر ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.