پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل دن 11 بجے طلب کر لیا گیا ہے، جس کا سات نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ایجنڈے کے مطابق مشترکہ اجلاس میں محدود قانون سازی کی جائے گی اور صرف تین بلز منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
ڈیووس میں وزیر اعظم شہبازشریف کی صدر ٹرمپ سے سرگوشیاں توجہ کا مرکز بن گئیں
ایجنڈے کے تحت دو بلز حکومتی وزرا کی جانب سے پیش کیے جائیں گے، جبکہ ایک بل رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی پیش کریں گی۔ اجلاس کے دوران نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جبکہ دانش اسکولز اتھارٹی کے قیام سے متعلق بل بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
اس کے علاوہ گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2025 بھی مشترکہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج بھی کیا۔