پشاور: خیبر پختونخوا پولیس نے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر اپنی تاریخ کا پہلا اسنائپر اسکواڈ تشکیل دے دیا ہے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق یہ اسکواڈ ایلیٹ فورس کا حصہ ہوگا اور جدید اسلحہ، خصوصی تربیت اور جدید آلات سے لیس کیا گیا ہے۔ اسکواڈ کو تین ماہ پر محیط اعلیٰ درجے کی تربیت دی گئی ہے جس میں طویل فاصلے پر نشانہ بازی، پوشیدہ دشمن کی شناخت اور مشکل جغرافیائی حالات میں کارروائی کی مہارت شامل ہیں۔
پاکستان میں سعودی عرب کے اشتراک سے سے گو اے آئی ہب کا افتتاح
ہر اسکواڈ میں دس اہلکار ہوں گے جو جدید اسنائپر رائفلز کے ساتھ تھرمل امیجنگ ڈیوائسز سے بھی لیس ہوں گے تاکہ سرد موسم یا رات کے اندھیرے میں بھی اہداف کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا سکے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تعیناتی صوبے کے جنوبی اضلاع، ملاکنڈ ڈویژن اور سرحدی علاقوں میں کی جائے گی، جہاں دہشت گردی کے واقعات کے خلاف جاری کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
سینٹرل پولیس آفس کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پولیس کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ کرنا اور مشکل نوعیت کے علاقوں میں آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی کہ یہ اسکواڈ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن فورس کے طور پر اہم کردار ادا کرے گا اور خیبر پختونخوا پولیس کی مجموعی صلاحیتوں میں ایک نمایاں اضافہ ثابت ہوگا۔