اے آر وائی نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سرنگیں نہ صرف اسلحہ چھپانے اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں بلکہ انہیں پناہ گاہوں اور ریاست و عوام کے خلاف منظم کارروائیوں کے مراکز کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔
حالیہ آپریشنز کے دوران ان خفیہ سرنگوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا، جسے عوام کے سامنے بطور ثبوت پیش کیا گیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل سیکیورٹی فورسز نے علاقے کے عمائدین کو متنبہ کیا تھا کہ خوارج کے چھوڑے گئے گولہ بارود سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط برتی جائے اور کسی بھی مشکوک ہتھیار یا مواد کی فوری اطلاع فورسز کو دی جائے۔یہ کارروائی اس لحاظ سے بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ صرف دو روز قبل، 27 ستمبر 2025 کو باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقے لغڑئی میں ایک اندوہناک سانحہ رونما ہوا۔ خوارج کی جانب سے چھوڑا گیا بارودی مواد بچوں کے ہاتھ لگ گیا، جو کھیل کے دوران اچانک پھٹ گیا۔ اس المناک دھماکے میں چار معصوم بچے شہید جبکہ پانچ شدید زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اسی علاقے میں پیش آیا جہاں چند ہفتے قبل خوارج کی بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ ان کا مکروہ طریقہ واردات یہی ہے کہ وہ معصوم بچوں کو اپنی چالوں میں الجھا کر خطرناک بارودی مواد انہی کے قریب چھوڑ جاتے ہیں، تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔