لاہور: تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل نے 9 مئی کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد کی جانب سے سنائی گئی سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
زرتاج گل کی جانب سے یہ اپیل ان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کے توسط سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ قانون اور شواہد کے برخلاف ہے، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ زرتاج گل کو ابتدائی طور پر مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا تھا، بلکہ بعد میں سپلیمنٹری چالان میں ان کا نام شامل کیا گیا۔ مزید کہا گیا ہے کہ وہ موقع پر موجود نہیں تھیں اور نہ ہی ان کی موجودگی کے کوئی ٹھوس شواہد پیش کیے گئے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مقدمے کے مرکزی گواہوں نے بھی زرتاج گل کی موجودگی اور میٹنگ میں شرکت کی تردید کی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اے ٹی سی فیصل آباد کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد نے 31 جولائی کو 9 مئی واقعے سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں، جن میں عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل شامل ہیں، کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے اس مقدمے میں 108 افراد کو سزا سنائی جبکہ 77 ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔