چین نے دنیا کا پہلا خودکار ڈرائیونگ کرنے والا ٹوائلٹ تیار کرلیا
رات کے وقت پیشاب کے لیے بستر سے اٹھنا اکثر لوگوں کے لیے مشکل محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر بزرگوں اور جسمانی معذوری کا شکار افراد کے لیے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے چین کی ایک کمپنی نے دنیا کا پہلا خودکار ڈرائیونگ ٹوائلٹ متعارف کرا دیا ہے۔
یوئی بین نامی کمپنی کے مطابق "شیاؤبین” نامی یہ روبوٹک ٹوائلٹ ایک بٹن یا وائس کمانڈ کے ذریعے صارف کے پاس خود پہنچ سکتا ہے۔ اس میں پہیے نصب ہیں اور یہ گھر کے اندر آسانی سے حرکت کر سکتا ہے۔
علی امین کی بجٹ بحث کے دوران اپنی ہی حکومت پر تنقید، وسائل کی تقسیم پر سوالات اٹھا دیے
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس خاص طور پر معمر اور معذور افراد کی سہولت کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اسے شنگھائی میں ایک ایونٹ کے دوران پیش کیا گیا۔
یہ ٹوائلٹ ریموٹ کنٹرول اور وائس کمانڈ دونوں کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے۔ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ یا وائی فائی نہ ہونے کی صورت میں بھی آواز کو پہچان کر کام کر سکے۔
مصنوعی ذہانت، لیڈار اور الٹراسونک سینسرز کی مدد سے یہ ٹوائلٹ صارف تک پہنچنے کے دوران راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے بچ سکتا ہے۔ اس میں بدبو کو روکنے کا خصوصی نظام بھی موجود ہے۔
استعمال کے بعد یہ خودکار طور پر اپنے ڈوکنگ اسٹیشن سے جڑ کر اپنی صفائی بھی کر لیتا ہے۔
کمپنی نے اس روبوٹ ٹوائلٹ کی قیمت 29 ہزار یوان مقرر کی ہے اور اسے چین میں فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔