بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور سیاست دان ہیما مالنی نے بتایا ہے کہ وہ موجودہ دور کی فلم سازی کے انداز سے خود کو ہم آہنگ نہیں کر پاتیں، اسی لیے اب فلموں میں کام نہیں کرتیں۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں 78 سالہ ہیما مالنی نے بھارتی سنیما کے سنہری دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ انہیں فلم انڈسٹری کے اس دور میں کام کرنے کا موقع ملا جب کئی یادگار فلمیں بن رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی فلم **”سپنوں کا سوداگر”** تھی، جبکہ **”خوشبو”** سمیت کئی دیگر فلمیں بھی ان کے کیریئر کا اہم حصہ رہیں۔
ہیما مالنی کا کہنا تھا کہ ماضی پر نظر ڈالیں تو وہ تقریباً 200 فلموں میں کام کر چکی ہیں، اور متعدد پروڈیوسرز انہیں اپنی اگلی فلموں میں بھی کاسٹ کرتے تھے۔ ان کے مطابق اس زمانے میں ہر فلم میں پانچ یا چھ گانے ہوتے تھے اور کامیاب موسیقی کو فلم کی کامیابی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج فلم سازی کا انداز ماضی کے مقابلے میں مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ موجودہ طرز کی فلموں میں خود کو فٹ محسوس نہیں کرتیں۔
ہیما مالنی نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1968 میں **”سپنوں کا سوداگر”** سے کیا تھا، جس کے بعد وہ بالی ووڈ کی کامیاب ترین اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں اور کئی دہائیوں تک فلمی دنیا میں نمایاں مقام برقرار رکھا۔