(سپیشل کراسپنڈنٹ)
امریکا میں ہونے والے نئے سرویز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی کارکردگی سے متعلق عوامی منظوری اپنی اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح
میں کچھ کمی کے باوجود امریکی عوام کی بڑی تعداد اب بھی روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور مجموعی معاشی صورتحال سے پریشان ہے۔
سرویز کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کے معاملے پر ٹرمپ کو عوامی دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ بہت سے ووٹرز کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی روزمرہ زندگی میں معاشی بہتری نمایاں طور پر نظر نہیں آ رہی۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں، ایندھن کے اخراجات اور صارفین کے بڑھتے ہوئے خرچے عوامی تشویش کی بڑی وجوہات بنے ہوئے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل معیشت ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔ اگر مہنگائی اور زندگی کے اخراجات میں واضح کمی نہ آئی تو اس کے اثرات انتخابی نتائج پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
دیگر قومی سرویز میں بھی ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے، اگرچہ بعض حلقوں، خاص طور پر دیہی علاقوں اور ریپبلکن حامی ووٹروں میں انہیں کچھ حمایت حاصل رہی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر معیشت اب بھی امریکی ووٹرز کی سب سے بڑی ترجیحات میں شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ افراط زر میں کمی کے اشارے مل رہے ہیں، لیکن خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی اخراجات کی بلند سطح کے باعث عوام کو معاشی بہتری کا واضح احساس نہیں ہو رہا، جس سے ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔