*فیملی پنشن کیس: لاہور ہائیکورٹ نے بیٹیوں کی پنشن ختم کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا*

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے طلاق یافتہ، بیوہ اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کی فیملی پنشن ختم کرنے کا پنجاب حکومت کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس احسن رضا کاظمی نے ایک متاثرہ خاتون کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ والدین کی وفات کے بعد بیٹیوں کو پنشن سے محروم کرنا آئین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
عدالت نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ تمام متاثرہ خواتین کو بلا تاخیر فیملی پنشن ادا کی جائے، اور وزارت خزانہ پنجاب و ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مسترد کر دیے۔
واضح رہے کہ محکمہ خزانہ پنجاب نے 2024 میں نوٹیفکیشن جاری کر کے فیملی پنشن کا حق صرف متوفی ملازم کی بیوہ تک محدود کر دیا تھا، جبکہ طلاق یافتہ، بیوہ اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کا حق ختم کر دیا گیا تھا، جسے اب عدالت نے غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے۔



