وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تہران میں ہونے والے چار ملکی اجلاس کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا تھا، جبکہ ان کے خیال میں تہران میں چاروں ممالک کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پیشرفت ہوئی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ حوثیوں نے حرمین شریفین پر حملے کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کا دفاع کرنا پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے۔
الیکشن فراڈ میں ملوث افراد کو سزا دلوانے پر 10 لاکھ ڈالر انعام دیں گے: ٹرمپ
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کے ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان نے عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں ہونے والے اجلاس میں امریکا کے ساتھ معاملات پر بھی بات ہوئی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ ختم ہوسکتی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آسکیں، تاہم امریکا اور اسرائیل میں انتخابات بھی ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جنگیں نہیں ہونی چاہییں۔



