عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں کہ حنا پرویز بٹ کتنی سنجیدہ ٹوئٹس کرتی ہیں، تاہم ن لیگی ایم پی اے ناسمجھی میں بعض اوقات ایسی باتیں کرجاتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے مسئلہ اور حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات میں پولیس کے پاس صرف 2 گھنٹے ہوتے ہیں، جن کے دوران اسے ملزمان کو گرفتار کرنا ہوتا ہے۔
پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے گیارہویں جماعت 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا
صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سی سی ڈی سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے بنائی گئی ہے، جس کے قیام کے بعد پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر سی سی ٹی وی فوٹیج موجود نہ ہوتی تو بچے کے قتل کو ٹریفک حادثہ قرار دے دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ والد کے انتقال کے بعد رشتے داروں نے بچے کو اپنے ساتھ رکھنے کی ذمہ داری نہیں اٹھائی۔ آج بہت سے رشتے دار سامنے آرہے ہیں، لیکن اس وقت کوئی بھی ان 2 بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ بچے کو کوئی تنخواہ نہیں دی جاتی تھی اور وہ صرف دو وقت کی روٹی کے عوض اس شخص کے پاس کام کررہا تھا۔ بچے نے تین مرتبہ اس شخص سے بھاگنے کی کوشش بھی کی تھی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملزم کے حوالے سے ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی تشدد پر مبنی رویہ اختیار کرتا تھا۔ ان کے مطابق ملزم حراست سے فرار ہوگیا تھا اور دو افراد اسے چھڑانے کے لیے آئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کے فرار ہونے کے بعد ناکہ بندی کی گئی اور اس کا تعاقب بھی کیا جاتا رہا۔ بہاولپور کے قریب ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ نہ رکے۔
صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملزمان کے ساتھ مقابلوں کے دوران ایک سال میں سی سی ڈی کے 7 اہلکار شہید جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم کے ساتھ گاڑی میں موجود دوسرا شخص تاحال مفرور ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے آج بھی اجلاس منعقد کیا، جس میں انہوں نے استفسار کیا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ کیوں ہورہا ہے۔



