Gas Leakage Web ad 1

قومی سلامتی بالاتر، خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجئے: سرفراز بگٹی

0

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود بھی دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی مدنظر رکھیں گے۔

Gas Leakage Web ad 2

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔
کے پی میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی نے جاری کیے: خواجہ آصف
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، جبکہ حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں حالیہ تقریر بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات یا سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین سے جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر غیر واضح مؤقف اختیار کرنا یا حقائق سے صرفِ نظر کرنا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور اس کے سیاسی و انتظامی نتائج پر بحث ہو یا بلوچستان حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، ہر معاملے میں حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کو معیار بنانا چاہیے۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید کرنا جمہوری حق ہے، تاہم دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ریاست کو درپیش چیلنجز، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے۔ قومی یکجہتی، سیاسی قیادت کی ذمہ دارانہ گفتگو اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون ہی پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دے سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے اور اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.