سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اسلام آباد آکر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو اسے رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔

اپوزیشن کے وفد نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں اپوزیشن کے وفد کی جانب سے علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، جبکہ جے یو آئی کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ سمیت دیگر قائدین نے شرکت کی۔
سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں کیا جاسکتا، صدر مملکت
اپوزیشن کے وفد سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مذاکرات کا حصہ نہیں تھے لیکن مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی، جبکہ مذاکرات ہوں تو سیاسی لب و لہجے میں ہونے چاہئیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے بھی لانگ مارچ کیے ہیں اور یہ ایک جمہوری حق ہے۔ اگر پی ٹی آئی اسلام آباد آکر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی حوالے سے میانہ روی کی طرف جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشاورت ہونی چاہیے، کیونکہ ہمیں اپنے علاقوں کی صورتحال کا بخوبی علم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم آئین اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم سب محب وطن ہیں۔ ان کے مطابق تجویز آئی ہے کہ ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے، جس کے لیے اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد ایک مشترکہ ایجنڈے کے تحت کانفرنس کی جائے گی۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہے، جبکہ سیاستدان مسائل کا حل نکالتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور مولانا کی طرح وہ بھی ایک متفقہ ایجنڈے کے خواہاں ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم سب پاکستان کے بیٹے ہیں اور وطن کی مشکلات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ ان کے مطابق مشاورت سے بننے والے ایجنڈے میں پورے پاکستان کے مسائل کا حل شامل ہوگا اور سب مل کر مشترکہ سیاسی جدوجہد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں سیاسی عمل روک دیا جائے وہاں انتہا پسند رویے پروان چڑھتے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کر دیا ہے، کیونکہ مولانا کے مطابق کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں۔



