وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بلڈ پریشر کے علاج کے لیے ماہر ترین ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا، ان کے بلڈ پریشر کی دوا تبدیل کی گئی اور اب صورتحال کنٹرول میں ہے۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کو ان کے علاج سے متعلق علم تھا اور بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے کوئی بات نہیں چھپائی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بہترین علاج معالجہ فراہم کیا گیا اور علاج کے بعد ان کا بلڈ پریشر نارمل اور آئیڈیل ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا جتنا دھیان رکھا جا رہا ہے، شاید گھر میں بھی کوئی اپنا اتنا دھیان نہ رکھ پائے۔
کوچ سے اختلافات اور پرتگال کی ٹیم کاکیمپ چھوڑنے پر رونالڈو کی لب کشائی، ریٹائرمنٹ نہ لینے کا اعلان
رہنما پاکستان تحریک انصاف عامر ڈوگر نے کہا کہ وزیراعظم سے مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوسکتی تھی اور اگر ایک اور نشست ہوتی تو نتیجہ نکل سکتا تھا۔
سلمان اکرم راجا نے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران انہیں بتایا گیا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر ٹھیک نہیں ہو رہا تھا، جس کے بعد لندن سے ایک ماہر ڈاکٹر کو بلایا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے اسے افواہیں قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی نے ایسا بتایا ہے تو غلط بتایا ہے اور عمران خان کا کوئی صحت کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم رانا ثناء اللہ نے اس بات کی نفی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا۔
اس حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے ایسا ڈاکٹر تلاش کیا گیا جو برطانیہ اور پاکستان دونوں جگہ پریکٹس کرتا ہو، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی بھی اس ڈاکٹر پر مطمئن ہے۔



