بیورو آف امیگریشن کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران 66 ہزار 815 پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے۔

رپورٹ کے مطابق اگست 2026 میں 27 ہزار 656 پاکستانی ملازمت کی تلاش میں بیرون ملک روانہ ہوئے، جبکہ جولائی میں بیرون ملک جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد 39 ہزار 159 تھی۔
ایل نینو کے باعث مون سون بارشیں شدید متاثر، سب سے کم بارش کہاں ہوئی؟
ماہانہ بنیاد پر روزگار کے لیے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 11 ہزار 503 کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب اگست میں پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ نے 5 ہزار 169 بلاسود قرضے جاری کیے، جن کی مجموعی مالیت 38 کروڑ 10 لاکھ روپے رہی۔ یہ قرضے چھوٹے کاروبار شروع کرنے، خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے فراہم کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 2019 سے اب تک بلاسود قرضوں کی مجموعی تقسیم 127 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
بیورو آف امیگریشن کے مطابق حکومت کی جانب سے رہائشی اور زرعی فنانسنگ کے مواقع بھی بڑھائے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو معاشی مواقع تک رسائی فراہم کرنا ہے۔



