وزارت اطلاعات نے نورستان میں لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کے افغان طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سفید جھوٹ قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ بیانات افغانستان میں جاری اندرونی جبر، اختلافات اور عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔

طالبان حکومت کے وزیر کی جانب سے الزام تراشی پر وزارت اطلاعات و نشریات کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت کے نام نہاد وزیر برائے سرحدی امور اور دیگر ترجمانوں کی جانب سے نورستان میں ہونے والی لڑائی کو پاکستان سے منسوب کرنے کے الزامات محض خود ساختہ بیانیہ ہیں، جن کا مقصد دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والی حکومت کو درپیش سنگین اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔
حکومت کا اگلے سال اسلام آباد میں ہونیوالے ایس سی او سربراہ اجلاس کیلئے 45 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ
اعلامیے کے مطابق افغان طالبان کی موجودہ حکومت غیر نمائندہ حکومت ہے اور افغان عوام پر بزور طاقت مسلط کی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق افغان رجیم کے بیانات ان کی اپنی ناکامیوں کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان کی جانب سے دہشتگردوں کی سرپرستی کرنا غیر اسلامی عمل ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ چند افغان رہنما پیسوں کی خاطر ہندوتوا کے عزائم کی پراکسی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی پالیسی افغان طالبان کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے، جبکہ طالبان رجیم کا کرائے کے ایجنٹوں والا طرز عمل افغانستان کو تباہی کے راستے پر لے جارہا ہے۔



