اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تحریک انصاف کو سنجیدہ مذاکرات کرنے کا مشورہ دے دیا۔

ایک بیان میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات سے انکار نہیں کیا، لیکن پی ٹی آئی مذاکرات میں اپنے لیڈر کی رہائی چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کئی بار واضح کرچکی ہے کہ اس معاملے کا فورم عدالت ہے، حکومت نہیں۔
بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان، صارفین پر کتنا اضافی بوجھ پڑنے والا ہے؟
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جب قانونی اور آئینی طریقہ کار موجود ہے تو جلسے جلوس اور شہروں پر چڑھائی کرکے بانی کی رہائی کا مطالبہ کرنا ممکن نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا۔
عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم سے متعلق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے معائنے کا حکم دیا تھا، جو ہوچکا ہے۔ اگر حکم پر عمل درآمد میں کوئی کمی بیشی ہے تو اس معاملے کو عدالت نے دیکھنا ہے، جلسے جلوس سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کے بعد اب حکومت کے پاس مذاکرات کا موقع ہے۔ ان کے مطابق حکومت ایک قدم آگے بڑھائے تو مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں۔
علی ظفر نے مزید کہا کہ 27 ستمبر سے پہلے اپوزیشن لیڈر کی ملاقات ہوئی تھی، جسے مذاکرات نہیں کہا جاسکتا۔ مذاکرات کمیٹیوں کے ذریعے بند کمرے میں ہونے چاہئیں، تاہم 4 اکتوبر کا لانگ مارچ حتمی ہے اور حکومت لانگ مارچ سے خوفزدہ ہے۔



