کیا آپ کے لیے روزمرہ کے کام جیسے سودا سلف لانا مشکل ہوتا جا رہا ہے؟ اگر ہاں تو یہ صحت متاثر ہونے اور قبل از وقت موت کے خطرے کی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ بات جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
یونسی یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 6 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ روزمرہ کے کام کرنے کی صلاحیت میں کمی آنے سے قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق کھانا تیار کرنا، کپڑوں کی دیکھ بھال، ٹرانسپورٹ کا استعمال، پیسوں کا انتظام سنبھالنا اور ادویات کا استعمال وغیرہ روزمرہ کے عام کاموں میں شامل ہیں۔ تحقیق میں شامل افراد کی عمر 45 سال یا اس سے زائد تھی اور ان کا ڈیٹا 2006 سے 2014 کے درمیان جمع کیا گیا تھا۔
ان افراد سے معلوم کیا گیا تھا کہ روزمرہ کے 10 کام انجام دینے کے لیے انہیں کس حد تک معاونت کی ضرورت پڑتی ہے۔ 95.4 فیصد افراد کو اپنے کام کرنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں تھا، جبکہ 276 افراد کے لیے وقت کے ساتھ عام کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
محققین کے خیال میں ان افراد کو جسمانی کمزوری یا کسی بیماری کے باعث روزمرہ کے کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوا، تاہم وہ اس کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کرسکے۔ محققین نے ان افراد کی جذباتی صحت کا بھی جائزہ لیا اور 2016 میں ڈپریشن کی علامات سے متعلق ایک سوالنامہ بھروایا گیا۔
بعد ازاں 2024 تک تحقیق میں شامل افراد کی اموات پر نظر رکھی گئی۔ اس عرصے کے دوران روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنے والے 276 افراد میں سے 187 افراد کا انتقال ہوا، جبکہ دوسرے گروپ میں 5757 افراد میں سے 1067 دنیا سے چل بسے۔
تمام عوامل، جن میں عمر، دائمی امراض، آمدنی، جسمانی سرگرمیاں اور دیگر عوامل شامل تھے، کو مدنظر رکھنے کے بعد محققین نے دریافت کیا کہ روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد میں موت کا خطرہ دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔
محققین کے خیال میں ڈپریشن کی علامات کے باعث بھی روزمرہ کے کام کرنا مشکل ہوسکتا ہے، جبکہ مختلف امراض بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ابھی تحقیق کے نتائج کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا، اس لیے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل گیرو سائنس میں شائع ہوئے۔