اسلام آباد سیف سٹی کیمروں اور سرویلنس انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے نیا آرڈیننس نافذ کردیا گیا، جس کے تحت کیمروں یا سرویلنس انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے پر 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔
صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر اسلام آباد سیف سٹی کیمروں اور سرویلنس انفراسٹرکچر کے تحفظ کا آرڈیننس منظور کرلیا۔ آرڈیننس کے تحت سیف سٹی کیمروں یا انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے یا اس پر اکسانے والے شخص پر فی کیمرہ یا انفراسٹرکچر 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔
سعودی عرب کا جوہری ہتھیار آپشن برقرار، امریکی خفیہ رپورٹ میں انکشاف
جلسے، جلوس، دھرنے یا احتجاج کے دوران کیمروں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں منتظمین بھی ذمہ دار قرار پائیں گے۔ نقصان پہنچانے والوں سے مرمت اور تبدیلی کے اخراجات بھی وصول کیے جائیں گے، جبکہ جرمانے اور نقصان کی رقم سیف سٹی کیمروں کی مرمت اور تبدیلی پر خرچ کی جائے گی۔
آرڈیننس کے مطابق مجاز افسر شنوائی کا موقع دینے کے بعد جرمانے کا تعین کرے گا، جس کے خلاف 30 روز میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے اپیل کی جاسکے گی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں رقم اراضی محصول کے بقایاجات کے طور پر وصول کی جائے گی۔