سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر وفاقی حکومت نے مذاکرات کے حوالے سے اپنی حکمت عملی طے کرلی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کو آئینی اور قانونی دائرے تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ وزیراعظم کی امریکا سے واپسی کے بعد محمود اچکزئی سے ملاقات متوقع ہے۔
میر رضا کیس: پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کی ہراسانی کی شکایت، کمیشن کا این سی سی آئی کو تحقیقات کا حکم
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات میں صرف چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری پر بات ہوگی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی رہائی کا معاملہ مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق عمران خان کی مستقل طور پر نجی اسپتال منتقلی پر بھی بات نہیں کی جائے گی۔ مذاکرات میں آئینی اور قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا، جبکہ وفاق پر چڑھائی کے دباؤ میں عمران خان سے متعلق کسی معاملے پر بات چیت ممکن نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان جاری شدید سیاسی کشیدگی کے ماحول میں مذاکرات کی ایک بار پھر بات سامنے آئی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے حکومت کو کھلے الفاظ میں مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی وفاقی سطح پر متعلقہ حلقوں سے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے۔