Gas Leakage Web ad 1

را اور طالبان کا مبینہ دہشتگرد نیٹ ورک پراکسی گروہوں کے ذریعے سرگرم، انٹیلی جنس ذرائع

0

اسلام آباد: انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان کا مبینہ دہشتگرد نیٹ ورک پراکسی گروہوں کے ذریعے سرگرم ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

پاکستانی انٹیلی جنس حکام کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی سرپرستی میں چلنے والا دہشتگردوں کا وہ نیٹ ورک، جو افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کرکے کام کر رہا ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردانہ حملوں کی تربیت، پناہ اور مالی معاونت کے لیے افغان سرزمین کو بطور لانچ پیڈ استعمال کر رہا ہے۔
کوئٹہ: گھر میں کھڑی موٹرسائیکل میں نصب دھماکا خیز مواد پھٹ گیا، 2 افراد جاں بحق
حکام نے بتایا کہ پاکستان برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بھارت اپنی سرزمین پر علیحدگی پسندوں اور عسکریت پسندانہ تشدد کی پشت پناہی کے لیے افغان علاقے کو استعمال کرتا ہے۔ اسلام آباد یہ معاملہ سفارتی فورمز پر متعدد بار اٹھا چکا ہے اور اپنے ڈوزیئرز کے ذریعے اس کے شواہد بھی پیش کرچکا ہے، تاہم بھارت اور افغانستان میں طالبان حکومت دونوں ماضی میں ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

تاہم دی نیوز کی جانب سے اس ہفتے جائزہ لیے گئے ایک خفیہ دستاویز میں اس سے کہیں آگے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

دستاویز میں ایک ایسے مکمل طور پر فعال نیٹ ورک کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جس کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را، افغانستان کے انٹیلی جنس نظام اور طالبان حکومت کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ایک مستقل انتظام موجود ہے، جس کے تحت پاکستان کے اندر حملے کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کے لیے تربیت، مالی معاونت اور پناہ کا انتظام کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے مطابق اس مبینہ انتظام کے مرکز میں موجود پراکسی گروہوں میں بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق بیرون ملک سے ان گروہوں کو رقم، تربیت اور پناہ فراہم کی جاتی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں بدامنی اور تشدد کو ہوا دینا ہے۔

ایک مزید انکشاف میں دستاویز میں بین الاقوامی سطح پر کالعدم قرار دی گئی تنظیم القاعدہ برصغیر کو بھی اسی مبینہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جسے پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی اداروں کی جانب سے جمع کی گئی انٹیلی جنس کے مطابق بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کا مبینہ گٹھ جوڑ 2025 کے لگ بھگ وجود میں آیا، جس کی بنیاد افغانستان میں پہلے سے قائم تربیتی کیمپوں پر رکھی گئی تھی۔ ان کیمپوں کو افغانستان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کی حمایت حاصل تھی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.