ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہم ہجرت کر کے قائد اعظم کے پاکستان میں آئے تھے ہمیں بھٹو کے پاکستان میں دھکیلا گیا ہے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دھرتی ماں صرف پاکستان ہے، صوبے صرف انتظامی یونٹس ہیں۔ صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینا سب سے بڑی غداری ہے اور آج تمام سیاسی جماعتیں ہماری آواز سے آواز ملا رہی ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کا سب سے زیادہ استحصال ہوا ہے۔ اے پی ایم ایس او کے منشور میں صوبے کا ذکر تھا اور اب یہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے۔ ایم کیو ایم کا پہلا مطالبہ ہے کہ پورے ملک میں آبادی کی بنیاد پر صوبے بنائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمارا صوبہ دے دیا جائے تو آرٹیکل 140 اے ہم خود نافذ کر لیں گے۔ ہمیں سندھ اسمبلی میں سندھو دیش کے خلاف قرارداد نہیں لانے دی گئی۔ آج صوبے کیوں ضروری ہیں اس کے لیے لمبی دلیل کی ضرورت نہیں۔
خالد مقبول نے مزید کہا کہ پہلے مردم شماری کرائی جائے اور پھر ایمانداری سے ووٹر لسٹیں بنائی جائیں۔ کراچی کی آبادی آج 2 کروڑ سے زائد ہے۔ جو ریاست مردم شماری نہ کرا سکے وہ مردم شناسی کیسے کرا سکتی ہے۔