سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرم اور پشاور میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران دو اہم کمانڈرز سمیت 9 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 8 ستمبر کو ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج سے منسلک افغان خارجی عبید اللہ سعد اپنے 3 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔
ہلاک ہونے والا خارجی عبید اللہ سعد افغان صوبے لوگر کا رہائشی اور کالعدم فتنہ الخوارج سے وابستہ تھا۔ دہشت گرد عبید اللہ سعد پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا۔
پاکستان کو ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست بنانا قائداعظم کی سیاسی میراث کا اولین مقصد ہے: وزیراعظم
دوسری جانب سی ٹی ڈی نے پشاور کے علاقے شمشتو کیمپ ارمڑ میں کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق تنظیم کا اہم کمانڈر عمران عرف عبداللہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔ دہشت گردوں سے ایس ایم جی، ہینڈ گرینیڈ، خودساختہ آئی ای ڈی اور اسلحہ برآمد ہوا۔ دہشت گرد مختلف مقامات پر دھماکوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
دہشت گرد عمران اسلام آباد سمیت دیگر دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے مقدمات میں مطلوب تھا۔ کمانڈر عمران ترلئی حملہ کیس سمیت ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں بھی ملوث تھا، جبکہ دہشت گرد کے سر کی قیمت 1 کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر تھی۔