سپریم کورٹ نے بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والی بیوہ کے حق میں اہم فیصلہ جاری کردیا، پاکستان میں الاٹ کی گئی زمین پر بیوہ کا حق تسلیم کرتے ہوئے مخالف فریقین کا دعویٰ مسترد کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں ٹرائل کورٹ کا سنہ 2000 کا حکم اور ہائیکورٹ کا 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا۔
پولیو ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا اعلان
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عبدالکریم پاکستان بننے سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے، جبکہ ان کی بیوہ نے پاکستان میں مستقل آبادکاری کے لیے ذاتی حیثیت سے زمین کی الاٹمنٹ کی درخواست دی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جس زمین پر فریقین نے حصہ دار ہونے کا دعویٰ کیا، وہ کبھی عبدالکریم کی ملکیت رہی ہی نہیں۔
سپریم کورٹ کے مطابق جائیداد ایک بے گھر ہجرت کرنے والی بیوہ خاتون کو الاٹ کی گئی تھی، جبکہ مخالف فریقین نے بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ مرحوم عبدالکریم کے رشتہ دار کا جائیداد پر دعویٰ بھارت میں چھوڑی گئی زمین کی حد تک ہوسکتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے 2000 کے حکم اور ہائیکورٹ کے 2014 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔