کراچی: سندھ کابینہ نے صوبے میں کچے کی زمینوں کے جامع سروے اور نقشہ سازی کی منظوری دے دی۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ’’سروے آف کَچا لینڈ اِن سندھ‘‘ منصوبے کی منظوری دی گئی، جس کے تحت سروے آف پاکستان کے ذریعے کچے کی زمینوں کا سروے کرایا جائے گا۔ کچے کی زمینوں کے سروے کے لیے 70 کروڑ 50 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
زیادہ اسمارٹ بننے کی کوشش نہ کریں، کمیشن کی میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے پولیس سرجن کی سرزنش
اجلاس کو بتایا گیا کہ کچے کی زمینوں کا سروے جی ٹو جی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا، جبکہ اس سروے کا مقصد زمینوں کے انتظام، منصوبہ بندی اور ریونیو مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ یہ منصوبہ ساڑھے 15 ماہ کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ بورڈ آف ریونیو اور سروے آف پاکستان کے درمیان معاہدہ جولائی 2026 میں طے پایا تھا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں کچے کی زمینوں کی حدود اور رقبے کا تعین کیا جائے گا، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر، میپنگ اور جیوڈیٹک کنٹرول کا کام بھی کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ زمین کے استعمال کی جیو ٹیگنگ اور حدود کی نشاندہی کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ زمینوں کی ملکیت اور استعمال سے متعلق ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا، جبکہ سروے مکمل ہونے کے بعد حتمی نقشے اور جامع سروے رپورٹس تیار کی جائیں گی۔ کچے کی زمینوں کا سروے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور شہید بینظیرآباد ڈویژنز میں کیا جائے گا، جبکہ چاروں ڈویژنز کے 613 دیہہ کچے کی زمینوں کے سروے میں شامل ہوں گے۔
سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبے میں کچے کی زمین کا مجموعی رقبہ تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار ایکڑ ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کچے کی زمینوں کی میپنگ سے ماحولیاتی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔