کراچی: میر رضا کیس میں تحقیقاتی کمیٹی نے ری انویسٹی گیشن کے سلسلے میں جائے وقوعہ کا کئی گھنٹے تک تفصیلی جائزہ لیا اور مختلف پہلوؤں سے کرائم سین کو دوبارہ ری کریئیٹ کیا۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے نرسری مالکان سمیت 5 ملازمین کے بیانات قلم بند کرلیے، جبکہ امام مسجد سمیت 2 افراد کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم کو مزید 4 افراد کے بیانات قلم بند کرنا ہیں، جن میں نرسری مالکان اور ملازمین سے تعلق رکھنے والے 2 افراد بھی شامل ہیں جو اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک ٹھیلے والے اور ایک سبزی فروش کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے گا۔
ملک بھر میں رحمت اللعالمین، خاتمُ النبیین حضرت محمد ﷺ کی ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے
ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں کرائم سین کو دوبارہ ری کریئیٹ کیا گیا۔ میر رضا کو پشت پر گولی لگنے کے زاویے، گولی لگنے کی ممکنہ پوزیشن اور لاش ملنے کے مقام کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
تحقیقاتی ٹیم نے مسجد سمیت اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے کوریج ایریا کا بھی جائزہ لیا۔ ٹیم کے ارکان نے مختلف مقامات پر کھڑے ہوکر کیمروں کی ممکنہ کوریج کا مشاہدہ کیا۔
ذرائع کے مطابق لاش ملنے کے مقام کے قریب پہاڑی پر موجود دشوار گزار راستے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور جائے وقوعہ سے باہر نکلنے کے 2 ممکنہ راستوں کی نشاندہی کی گئی۔
دونوں راستوں سے آمدورفت اور ممکنہ طور پر فرار کے طریقوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ کے بائیں جانب بڑی اور کانٹے دار جھاڑیوں کے باعث گزرنا تقریباً ناممکن ہے، جبکہ دائیں جانب مسجد کی طرف موجود راستہ بھی انتہائی دشوار گزار ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اطراف گھنی اور کانٹے دار جھاڑیوں کی وجہ سے جائے وقوعہ سے نکلنا انتہائی مشکل ہے، اس لیے ممکنہ آمدورفت کے تمام پہلوؤں کو بھی تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔