سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔
سپریم کورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات اور علاج سے متعلق کیس میں سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے 2 صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کرائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق توہین عدالت کا کیس چیف جسٹس ہائیکورٹ کی سربراہی میں بینچ نمٹا چکا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی حمایت میں صدر ٹرمپ کے الفاظ کو سراہتا ہوں، شہبازشریف
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی رولز کے مطابق ہر منگل کو باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی اب تک 84 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔ سلمان صفدر بھی 10 فروری اور 4 اپریل کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر چکے ہیں۔
رپورٹ میں سلمان اکرم راجا کی عدالت میں دی گئی یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا تھا کہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کا سنگل بینچ جیل رولز 265 کو خلاف قانون قرار دے چکا ہے، تاہم عدالت میں یقین دہانی کے باوجود جیل ملاقاتوں کے بعد عدلیہ، خارجہ پالیسی اور ایجنسیوں کے خلاف عوامی جذبات ابھارے گئے۔
سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے 3 سال کے دوران ہونے والے 39 طبی معائنوں کی سمری بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دن میں 3 مرتبہ بانی پی ٹی آئی کے کھانے پینے کی جانچ اور میڈیکل چیک اپ کیا جاتا ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کا متعدد سرکاری معالجین بھی طبی معائنہ کرتے رہے ہیں، جس کا ریکارڈ موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج ماہر امراض چشم سے کرایا جاتا رہا ہے اور ان کی ایک آنکھ تقریباً نارمل ہوچکی ہے۔ رپورٹ میں 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک ہونے والے 39 طبی معائنوں کی سمری بھی شامل ہے۔ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت سے مقدمہ نمٹانے کی استدعا کی ہے۔