Gas Leakage Web ad 1

امریکا اور ایران کو دوبارہ اسلام آباد معاہدے کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں: پاکستان

0

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران خطے کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے اور پاکستان مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ متعلقہ فریقین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت مذاکراتی عمل کی طرف واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے معاملے میں پاکستان اپنا سفارتی کردار بدستور جاری رکھے گا۔

Gas Leakage Web ad 2

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جبکہ 25 جولائی کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ سے گفتگو کی۔ اس کے علاوہ اردن کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ ہوا، جبکہ گزشتہ روز کویت کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا سرکاری دورہ مکمل کیا۔
تربت سے دو روز قبل اغوا ہوئے 4 پنجابی اور 2 پشتون مزدوروں کی لاشیں برآمد
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ، آبنائے ہرمز اور باب المندب کی موجودہ صورتحال باعث تشویش ہے، تاہم پاکستان کو امید ہے کہ متعلقہ فریقین دوبارہ تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع کریں گے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع خطے کے دیگر حصوں تک نہیں پھیلنا چاہیے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ سعودی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق عراق کی جانب سے متعدد ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے مؤقف کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ انہیں اس بارے میں عراق کی جانب سے کسی باضابطہ بیان کا علم نہیں۔

بھارت کی جانب سے پاکستانی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی محدود کرنے کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ رویہ مضحکہ خیز ہے۔ ان کے مطابق بھارتی حکومت اطلاعات پر کنٹرول اور سرکاری بیانیے کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ بھارت میں حقائق پر مبنی صحافت کے لیے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے اور آزاد آوازوں کو دبانے کے لیے پابندیوں اور سخت اقدامات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی میڈیا اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں آزادیٔ اظہار پر عائد پابندیوں کا نوٹس لیں۔ ترجمان نے ڈی ڈبلیو کی دستاویزی فلم کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرانے بیانیے، قیاس آرائیوں اور جانبدار ذرائع پر مبنی ہے۔

کویت کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ دراصل 2023 میں طے پایا تھا اور پاکستان اور کویت کے درمیان 1980 کی دہائی سے جاری دفاعی تعاون کا تسلسل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ موجود اسٹریٹیجک دفاعی تعاون سے مختلف نوعیت رکھتا ہے اور پاکستان اپنے تمام دفاعی معاہدوں کے تحت ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے گا۔

افغانستان سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق طالبان جنگجو وردی نہیں پہنتے، اس لیے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے لگائے جانے والے الزامات درست نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے سکھ یاتریوں کو بڑی تعداد میں ویزے جاری کیے ہیں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات ایک معمول کا جمہوری عمل ہیں اور اس حوالے سے بین الاقوامی برادری نے دفتر خارجہ کے سامنے کوئی باضابطہ تحفظات نہیں رکھے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو آزاد جموں و کشمیر کے معاملات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، جبکہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ بھارت اس حق کی مخالفت کرتا ہے، اور یہی دونوں ممالک کے مؤقف میں بنیادی فرق ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.