تربت میں اغوا کیے گئے 6 مزدوروں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد علاقے میں افسوس کی فضا چھا گئی، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق لاشیں ملنے کی اطلاع پر مقامی انتظامیہ موقع پر پہنچی اور میتوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تمام افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا، جبکہ لاشوں کی شناخت اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
حکام کے مطابق مقتولین میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے چار افراد شامل ہیں، جن میں بہاولپور کے محمد تیمور ولد محمد رفیق، محمد وزیر ولد محمد رمضان، محمد پرویز ولد بشیر احمد اور ضلع لودھراں کی تحصیل دنیا پور کے محمد ارشد ولد محمد رفیق شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مقتولین میں بونیر کے امجد خان ولد زری بان شاہ اور صوابی کے یحییٰ ولد نوروز خان شامل ہیں۔
4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری
بلوچستان حکومت کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے تصدیق کی کہ یہ لاشیں دو روز قبل تربت کے علاقے کلاتک سے اغوا کیے گئے سات مزدوروں میں سے چھ افراد کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اغوا کے وقت ایک مزدور کو موقع پر ہی فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ باقی چھ مزدوروں کو دہشت گرد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
بابر یوسفزئی کے مطابق جاں بحق ہونے والے مزدوروں میں چار کا تعلق پنجاب اور دو کا خیبر پختونخوا سے تھا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں بھی پانچ غیر مقامی مزدوروں کو قتل کیا گیا تھا۔ یہ تمام مزدور بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیچ میں چھ مزدوروں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے بے گناہ مزدوروں کو نشانہ بنا کر انتہائی سفاکیت کا مظاہرہ کیا اور بلوچستان کی ترقی و روزگار پر حملہ کیا ہے۔
ادھر گوادر میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے روزگار کا جھانسہ دے کر پنجاب سے بلائے گئے اور یرغمال بنائے گئے 12 افراد کو بازیاب کرا لیا۔
گوادر پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ پانچ گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئیں۔ گرفتار ملزمان میں آواران کے رہائشی بہیر الدین اور نادر شاہ جبکہ پنجگور سے تعلق رکھنے والا عبدالماجد شامل ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔