سینیئر حکام کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے سخت امیگریشن اقدامات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مسافروں کی جانچ کے نظام کے نفاذ کے بعد بیرونِ ملک بھیک مانگنے کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کی بے دخلی میں 75 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ یورپ میں غیر قانونی سرحدی داخلوں میں بھی 47 فیصد کمی آئی ہے۔
ایف آئی اے کے سینیئر افسر ڈاکٹر اطہر وحید نے بتایا کہ بیرونِ ملک بھکاریوں کی بے دخلی کے واقعات میں 75 فیصد جبکہ جعلی سفری دستاویزات کی بنیاد پر بے دخل کیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا: حکومت نے نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا
انہوں نے کہا کہ 2024 کے مقابلے میں 2025 کے دوران یورپی ممالک سے پاکستانی شہریوں کی مجموعی بے دخلی میں بھی 16 فیصد کمی آئی۔
ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق یورپی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی (فرونٹیکس) کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران پاکستانی شہریوں کی جانب سے یورپ میں غیر قانونی سرحدی داخلوں میں 47 فیصد کمی آئی، جس کا کریڈٹ ایف آئی اے نے ہوائی اڈوں پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر مؤثر امیگریشن جانچ اور رسک پروفائلنگ کے نظام کو دیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ بہتری اپ گریڈ شدہ انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (IBMS-II) کے نفاذ کے بعد سامنے آئی، جسے نادرا، انٹرپول، امیگریشن اینڈ پاسپورٹ سسٹم (IMPASS) اور بیورو آف امیگریشن کے ڈیٹا بیس سے منسلک کیا گیا ہے۔ ادارے نے ایک رسک اینالیسس یونٹ بھی قائم کیا ہے جبکہ e-IMMI پری ڈپارچر ڈیسک کے ذریعے مصنوعی ذہانت پر مبنی مسافروں کی پروفائلنگ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ روانگی سے قبل ہائی رسک مسافروں کی نشاندہی کی جا سکے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، ویزوں کے منظم غلط استعمال میں ملوث نیٹ ورکس کے خاتمے اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کے ذریعے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
ادارے کے ان دعوؤں کی تائید خلیجی ممالک سے بے دخلی کے واقعات میں آنے والی مجموعی کمی سے بھی ہوتی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (امیگریشن) نعمان صدیقی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک نے بھیک مانگنے کے الزام میں تقریباً 4 ہزار 800 پاکستانیوں کو بے دخل کیا تھا۔ یہ تعداد 2025 میں کم ہو کر تقریباً 1 ہزار 100 رہ گئی، جبکہ رواں سال مزید کم ہو کر 802 تک پہنچ گئی، جسے حکام وزٹ ویزوں پر بیرونِ ملک بھیک مانگنے کے رجحان کے خلاف سخت کارروائی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
نعمان صدیقی نے بتایا کہ پاکستانی ہوائی اڈوں پر بھی نگرانی اور نفاذ کے اقدامات مزید سخت کیے گئے ہیں۔ 2024 میں 507 جبکہ 2025 میں 597 ایسے افراد کو پرواز سے اتار دیا گیا جن پر بھیک مانگنے کے لیے بیرونِ ملک جانے کا شبہ تھا، جبکہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران صرف 27 افراد کو روکا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سخت جانچ پڑتال اور قانونی کارروائیوں نے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایف آئی اے نے اس سلسلے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں۔ 2024 میں پرواز سے اتارے گئے مبینہ بھکاریوں کے خلاف 34 مقدمات درج کیے گئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 38 ہو گئی۔
اسی طرح بیرونِ ملک سے بے دخل کیے گئے بھکاریوں کے خلاف درج مقدمات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ 2024 میں اس نوعیت کے 50 مقدمات درج کیے گئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 239 ہو گئی، کیونکہ تفتیش کاروں نے بیرونِ ملک بھیک مانگنے کے نیٹ ورکس کو سہولت فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔